سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سیلاب متاثرین کو یوٹیلٹی بلز بھیجنے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محمود خان نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے گھر بار، زندگی کی جمع پونجی اور برسوں کی محنت سیلاب کی نذر ہو گئی اُنہیں ریلیف دینے کے بجائے بجلی اور گیس کے ظالمانہ بل تھما دینا انسانیت اور انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔
محمود خان کا کہنا تھا کہ سیلاب نے ہمارے لوگوں کے سر سے چھت چھین لی، زندگی بھر کی محنت پانی میں بہہ گئی مگر حکومت نے ایسے وقت میں بھی عوام کو سہارا دینے کے بجائے اُن پر مزید بوجھ ڈال دیا۔
سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ یہ بل صرف ایک مالی بوجھ نہیں بلکہ بے حسی اور ظلم کی وہ تلوار ہیں جو غمزدہ عوام کے زخموں کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سوات، بونیر، شانگلہ اور صوابی کے متاثرہ عوام امداد یا خیرات نہیں بلکہ انصاف مانگ رہے ہیں۔
وفاقی حکومت متاثرین کے آنسوؤں کا مذاق بنانا بند کرے اور فوری طور پر ان متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر بجلی اور گیس کے بل مکمل طور پر معاف کرے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا قدم،307 خاندانوں کو 614 ملین روپے ادا کر دیے گئے،بیرسٹر سیف
محمود خان نے مزید کہا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد، رہائش، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے ورنہ عوامی ردعمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے





