ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون بائیک رائیڈر اور سیاح نورالی کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے غیر ضروری اور ناروا سوالات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔
ترجمان ہزارہ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث لیس ہیڈ کانسٹیبل خیرالرحمن کو معطل کر دیا گیا ہے، دو دیگر کانسٹیبلز شاہد اور وسیم کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
معاملے کی مکمل انکوائری کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بٹگرام محمد ایاز خان کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے جو جلد از جلد تحقیقاتی رپورٹ ڈی آئی جی ہزارہ کو پیش کریں گے۔
ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ پولیس کے لیے سیاح دوست ماحول، پیشہ ورانہ رویہ اور غیر ملکی مہمانوں کو تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی یا غیر ذمہ داری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈی آئی جی ہزارہ نے مزید کہا کہ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی ہدایت پر مستقبل میں پولیس اہلکاروں کو غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ خوش اخلاقی، مثبت رویے اور بہتر برتاؤ سے متعلق تربیتی سیشنز اور ورکشاپس کرائی جائیں گی تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو اور خیبرپختونخوا پولیس کا عوام دوست اور مہمان نواز چہرہ دنیا بھر میں برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے نے سیاحوں کیلئےایڈوائزری جاری کر دی
یاد رہے کہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف بائیک رائیڈر نورالی حالیہ دنوں پاکستان کی سیر پر آئیں تو انہیں دوران سفر پولیس کی جانب سے غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
نورالی نے اس ناخوشگوار تجربے کی ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کی جس میں وہ پولیس کے رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتی نظر آئیں، انہوں نے مجموعی طور پر پاکستانی عوام کی مہمان نوازی اور خلوص کو سراہا۔





