وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے دوران علیمہ خان کا بیٹا حسان نیازی کے ساتھ موجود تھا اور اسی لیے اسے واضح شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت کا نشانہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نہیں، بلکہ صرف وہ افراد ہیں جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور ریاستی اداروں پر حملے کیے۔ان کے بقول
’’ہم نے پی ٹی آئی قیادت سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے عناصر سے لاتعلقی اختیار کریں جنہوں نے قانون شکنی کی۔‘‘
9 مئی کے واقعات، شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاںوزیرمملکت کا کہنا تھا کہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور گرفتاریاں اسی کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، کسی کے ساتھ زیادتی یا انتقامی کارروائی نہیں کی جا رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہو۔
سیاسی ڈائیلاگ کی پیشکش، اسپیکر قومی اسمبلی کا کردارطلال چوہدری نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش کی ہے، اور کہا ہے کہ بات چیت کے لیے قومی اسمبلی، سینیٹ اور ان کا دفتر دستیاب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی سیاسی مفاہمت چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ اسپیکر کی اس پیشکش کو قبول کرے۔
ضمنی انتخابات اور عوامی فیصلہ پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشستوں پر ممکنہ ضمنی انتخابات سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا’’ہم کسی انتخابی عمل سے نہیں گھبراتے، جو بھی فیصلہ عوام کریں گے ہم اسے تسلیم کریں گے۔‘‘





