شیر افضل کے ایک طنز پر بھارتی تلملا اٹھے،سچ برداشت نہ ہو سکا،حیران کن ردعمل سامنے آگیا

شیرافضل مروت نے کمیٹی استعفے دینے کی سوچ کو ناقابل قبول قرار دے دیا

اسلام آباد: ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اختلافات کے باوجود مفاہمت کے حق میں زیادہ لوگ ہیں۔

تاہم مستقبل قریب میں کسی مفاہمت یا مکالمے کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے فی الحال نظام اسی طرح چلانا ہے۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ پی ٹی آئی کی وکالت کر رہے ہوتے تو اپنے کلائنٹس کو چھپنے کا نہیں کہتے، اور کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اتنا کبھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 24 اور 25 نومبر کو مذاکرات ہو رہے تھے، جن میں تجویز دی گئی کہ سنگجانی پر دھرنا دیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے راستہ نکالا جائے، لیکن اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر فیصل امین خان نے تمام قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا

شیرافضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے اعتماد کے چند لوگوں کو اختیار دینا چاہیے، اور انہوں نے کمیٹیوں سے استعفے دینے کی حالیہ تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچ درست نہیں اور بانی پی ٹی آئی سے بدنیتی پر مبنی فیصلے کرائے جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے خیبرپختونخوا کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی دی۔

Scroll to Top