افغان خواتین کے تعلیم و ملازمت کے دروازے بند، زندہ رہنا ہی اولین ترجیح بن گئی، افغان صحافی

اسلام آباد : افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد خواتین کے حقوق پر سنگین پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جس کے باعث خواتین کے لیے تعلیم اور ملازمت کے دروازے مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔

میڈیا سمیت مختلف اداروں میں کام کرنے والی خواتین پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے خلاف افغان خواتین نے احتجاج بھی کیا، مگر اب صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ وہاں خواتین کے لیے سب سے بڑی ترجیح صرف زندہ رہنا بن چکی ہے۔

یہ بات افغان صحافی کریمہ حفیظ نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے نزدیک وہ عورت قبول ہے جو گھر کے اندر رہے، کپڑے دھوئے، اور گھر کے کام کاج میں مصروف ہو، جبکہ انہیں خاتون ڈاکٹر یا کسی بھی پیشہ ورانہ شعبے میں عورت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر طالبان واقعی خواتین کو قبول کرتے تو انہوں نے تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند نہ کیے ہوتے۔

کریمہ حفیظ نے بتایا کہ جب افغانستان میں حکومت تبدیل ہوئی تو خواتین کے لیے حالات انتہائی خراب ہو گئے۔ میڈیا، فیمل سکولز اور کالجز بند ہو چکے ہیں۔ ایسی خواتین بھی ہیں جن کے گھر میں کوئی مرد نہیں، وہ مجبورا بازار یا نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی افغان مہاجرین کو مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر ویزوں کی بندش نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : الخدمت کے رضاکار بنیں، سیلاب متاثرین کی فوری مدد ضروری ہے، حافظ نعیم

پاکستان حکومت نے تمام افغان مہاجرین کے لیے ویزے بند کر دیے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور دیگر تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم زبان اور ثقافت کے حوالے سے دونوں ممالک کے لوگوں میں بہت سی مشابہتیں موجود ہیں۔

کریمہ حفیظ کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف یہ پابندیاں اور مشکلات افغان معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور بین الاقوامی برادری کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ افغان خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دیے جا سکیں۔

Scroll to Top