کیپٹن (ر) محمد صفدر نے دعویٰ کیا ہے کہ عام انتخابات میں ہزارہ سے نواز شریف کی شکست دراصل ووٹوں کی گنتی میں غلطی کا نتیجہ ہے، نہ کہ عوامی فیصلے کا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن صفدر نے کہا کہ’’ہزارہ کے عوام نے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا، لیکن نتائج میں فرق ڈال دیا گیا۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہزارہ سے مسلم لیگ (ن) کی شکست کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ ان کے بقول عوام نے بھرپور حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جو لوگ کہتے ہیں ن لیگ ہار گئی، وہ غلط ہیں۔ اگر کسی کو یقین نہیں، تو جو امیدوار جیتنے کا دعویٰ کر رہا ہے وہ استعفیٰ دے، ہم دوبارہ الیکشن لڑ لیتے ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘
یاد رہے کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ہزارہ سے قومی اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا تھا، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت وہ لاہور کے حلقہ این اے-130 سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں، جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست دی تھی۔
کیپٹن صفدر کے اس بیان نے ایک بار پھر ہزارہ ریجن میں انتخابی نتائج پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حامیوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دوبارہ گنتی یا انکوائری کی جائے۔





