خیبر پختونخوا! انصاف کے نظام میں تیزی کا فیصلہ ، مقدمات جلد نمٹانے کیلئے جوڈیشل افسران کو ٹائم لائنز جاری

خیبر پختونخوا! انصاف کے نظام میں تیزی کا فیصلہ ، مقدمات جلد نمٹانے کیلئے جوڈیشل افسران کو ٹائم لائنز جاری

خیبرپختونخوا میں عدالتی نظام کو مؤثر اور تیز تر بنانے کی جانب اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے مقدمات کو بروقت نمٹانے کے لیے صوبے کے تمام جوڈیشل افسران کو باقاعدہ ٹائم لائنز پر مبنی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز) کے مطابق، اس مراسلے میں نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مقدمات کو طے شدہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

مختلف مقدمات کے لیے مقررہ مدتیں درج ذیل ہیں:
فوجداری مقدمات:
سنگین نوعیت: 24 ماہ
درمیانے درجے کے: 18 ماہ
کم شدت والے: 12 ماہ
جووینائل (کم عمر ملزمان) اور لیبر کیسز: 6 ماہ
زمین سے متعلق تنازعات: 6 سے 24 ماہ
وراثتی اور پبلک ریونیو کیسز: 1 سال
فیملی اور رینٹ مقدمات: 6 ماہ
سکسیشن سرٹیفکیٹ: 2 ماہ
کنٹریکٹ انفورسمنٹ کیسز: 18 ماہ
سول و بینکنگ ڈگری کیسز: 1 سال
رینٹ ڈگری مقدمات: صرف 3 ماہ
پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اس اقدام کا مقصد صوبے میں انصاف کی فراہمی کو مؤثر، شفاف اور بروقت بنانا ہے، تاکہ شہریوں کو برسوں مقدمات کے فیصلوں کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے۔

قانونی ماہرین اور عوامی حلقے اس فیصلے کو نظام انصاف میں بہتری کی جانب مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف عدالتی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ سائلین کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔

Scroll to Top