آڈٹ حکام کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے فنڈز سے تقریباً 23 ارب 68 کروڑ روپے غیر مستحق سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو منتقل کیے گئے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق، صرف سال 2019 اور 2020 میں 55 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے بی آئی ایس پی سے رقم وصول کی، جن میں گریڈ 20 کے 85 اور گریڈ 19 کے 630 افسران شامل تھے۔ سب سے زیادہ رقم سندھ اور خیبرپختونخوا کے ملازمین کو دی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 2008 سے قبل وفات پانے والے افراد کے نام پر بھی سالہا سال رقم وصول کی گئی، جس سے ڈیڑھ کروڑ سے زائد روپے کی خورد برد ہوئی۔ مزید برآں، بی آئی ایس پی کے ملازمین کو بھی 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ فروری 2020 میں ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین کے اکاؤنٹس بلاک کر دیے گئے، تاہم اب تک صرف 16 ارب 33 کروڑ روپے کی رقم واپس حاصل کی جا سکی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرنے والے گریڈ 16 سے 22 تک کے افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کرے اور انہیں ملازمت سے بھی برطرف کیا جائے۔ گریڈ 15 تک کے ملازمین سے بھی رقم واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اپر کوہستان سکینڈل: گرفتار ملزمان کی ضمانت درخواستیں خارج کر دیں، عدالت کا جیل بھیجنے کا حکم
کمیٹی کے کنوینر معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ اس غیر قانونی عمل کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے تاکہ مستحق افراد کو ان کا حق دیا جا سکے۔





