پشاور : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے خیبر میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فیصلے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
خیبر میڈیکل کالج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کے ایم یو اور کے ایم سی کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے، دونوں ادارے اپنی جگہ اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس سلسلے میں مختلف ڈویژنز میں سہولیات مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں دل کے آپریشنز کی سہولیات کے لیے تیس کروڑ روپے جلد فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت یہ پیسہ ان شعبوں میں خرچ کرے گی جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہمیں صوبے میں ڈیمز بنانے چاہئیں تاکہ بارشوں کا پانی نقصان کے بجائے فائدہ بن جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک دکاندار نے شکایت کی کہ اسے ایک کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور صرف پانچ لاکھ روپے معاوضے میں ملےمیں نے جواب میں کہاکہ شکر کریںپہلے تو پانچ لاکھ بھی نہیں ملتے تھےموجودہ حکومت نے معاوضوں کی رقم دوگنا کر دی ہے۔
انہوں نے صوبے کے ساتھ جاری زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہری نظام اور کنالوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈنگ نہیں کی جا رہی جو کہ صوبے کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔





