شمالی وزیرستان:فیسٹیول کے نام پر ایک کروڑ تیس لاکھ روپےخردبرد کا انکشاف،انکوائری شروع

شاکر خان
میرانشاہ: شمالی وزیرستان کے سیاحتی مقام سب ڈویژن رزمک میں دو ہفتے قبل “درزمک رنگونہ فیسٹیول” کے نام سے دو روزہ ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیا۔

میلے میں مقامی سطح پر کھیلوں کے مقابلے اور صرف دو مقامی گلوکاروں، سلطان سرحدی اور جاوید محسود، کی پرفارمنس شامل تھیں۔ فیسٹیول میں کوئی خاص سرگرمی یا نمایاں ایونٹ دیکھنے کو نہیں ملا۔

ذرائع کے مطابق اس فیسٹیول کے لیے محکمہ کھیل کے نام پر ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی خطیر رقم نکلوائی گئی، تاہم یہ رقم ایک ایسے شخص کے نام پر جاری ہوئی جو خود کو ضلع شمالی وزیرستان کا اسپورٹس آفیسر ظاہر کرتا ہے، جبکہ اصل ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نوراللہ ہیں۔

پختون ڈیجیٹل کی جانب سے مؤقف جاننے پر ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نوراللہ نے بتایا کہ انہیں اس پورے معاملے سے مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا ہے۔

اس مبینہ کرپشن پر جب ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان، یوسف کریم کنڈی، سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی ابتدائی انکوائری اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں کی جا چکی ہے۔ سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز اور سیکریٹری ٹورازم کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں تاکہ باقاعدہ تحقیقات کر کے ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

علاقے کے عمائدین اور معتبر شخصیات نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس بدعنوانی کے مرتکب افراد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

Scroll to Top