وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ سیلاب کے دوران تباہ ہونے والے پلوں اور سڑکوں کی تباہی کا ذمہ دار بدعنوانی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کرپشن ہمارے معاشرتی کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ کا صرف 15 سے 20 فیصد ہی اصل کام پر صرف ہوتا ہے، جبکہ باقی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول، تعمیراتی عمل میں شامل تمام فریق — منصوبہ ساز، کنٹریکٹرز اور تعمیراتی ادارے — مالی مفادات کے حصول میں لگے ہوتے ہیں، جس کے باعث منصوبے ناپائیدار اور غیر معیاری ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ایسے پل اور سڑکیں جو صرف چند برسوں میں تباہ ہو جاتی ہیں، ان کے مقابلے میں برطانوی دور حکومت میں بننے والے پل آج بھی قائم و دائم ہیں، جو معیار اور ایمانداری کی مثال ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں رزقِ حلال کی قدرو قیمت کم ہو گئی ہے، اور دولت کمانے کی دوڑ نے دیانت داری کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جب تک احتساب مؤثر انداز میں نہیں کیا جائے گا اور سرکاری فنڈز کو حقیقی طور پر عوامی فلاح پر خرچ نہیں کیا جائے گا، تباہ حال انفراسٹرکچر اور نقصانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے مطابق، اس روش سے ہم نہ صرف مالی بلکہ قدرتی آفات کے اعتبار سے بھی خطرات کو دعوت دے رہے ہیں۔





