خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع میں پولیس انفرسٹرکچر کی تعمیر کی منظوری

پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ ضم اضلاع میں پولیس انفرسٹرکچر کی تعمیر کیلئے 14ارب روپے کی منظوری دے دی گئی۔

جس کے بعد پولیس لائنز، پولیس سٹیشنز اور چوکی سمیت دیگر پولیس انفرسٹرکچر کی تعمیر کیلئے زمینوں کے حصو ل پر کام شروع کردیا گیا، جنوبی اضلاع میں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گردوں کے25ڈرون حملے پسپا کئے گئے۔

صوبے میں بھتہ خوری کی وارداتیں روکنے کیلئے افغانستان اور وٹس ایپ انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا گیا جس کے ذریعے اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرکے کئی ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخواذوالفقار حمید نے میڈیا کو بتایاکہ 2021ء میں افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور دہشت گرد تشکیل کی صورت میں یہاں پر آئے تاہم ان کا پیچھا کرکے ان کا خاتمہ کررہے ہیں۔
پچھلے سال کی نسبت گزشتہ 8ماہ میں دہشت گردی وٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں20فیصد کمی آئی کیونکہ پولیس انفرسٹرکچر کو بہتر بناکر سی ٹی ڈی اور پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : کابل میں سہ فریقی اجلاس، سکیورٹی، معاشی تعاون اور دہشتگردی پر مشاورت متوقع

انہوں نے بتایاکہ ضلع بنوں اورڈیرہ اسماعیل خان میں ڈرون کے ذریعے دہشتگردی واقعات پیش آئے تاہم اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اورجیمرز کے ذریعے 25حملے ناکام بنائے گئے اوران کے ڈرون گرائے گئے، خیبرپختونخوا میں پولیس تھانوں، چوکیوں اور پولیس لائنز کی انفرسٹرکچر بہتربنانے کیلئے 4500ملین روپے فراہم کیے گئے، حساس اضلاع بنوں، ڈی آئی خان اور لکی مروت میں 24نئے تھانے تعمیر کئے جارہے ہیں۔

صوبائی پولیس سربراہ نے بتایاکہ ضم اضلاع میں دہشتگردی و سکیورٹی سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، خیبر، کرم، باجوڑ، مہمند اور اورکزئی میں پولیس انفرسٹرکچر کی تعمیر کیلئے 14ارب کی منظوری دی گئی، جس میں 7ارب جاری کئے گئے، دہشتگردی سے متاثرہ ان اضلاع کی پولیس انفرسٹرکچر پرماضی میں کوئی توجہ نہیں دی گئی تاہم اب وہاں بھی پولیس سمیت فورسز کوجدید ہتھیار اورآلات سے لیس کیاجارہاہے تاکہ وہ دہشتگردوں سے بہتر انداز میں لڑسکیں۔

Scroll to Top