امریکا میں نصف ووٹرز نے غزہ میں اسرائیلی کارروائی کو نسل کُشی قرار دیا

واشنگٹن: ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں ووٹرز کی اکثریت اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری کارروائیوں کو فلسطینیوں کے خلاف نسل کُشی قرار دے رہی ہے، جبکہ بیشتر ووٹرز نے اسرائیل کو مزید امریکی اسلحہ فراہم کرنے کی بھی مخالفت کی ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی جانب سے کرائے گئے اس سروے کے مطابق امریکا کے نصف سے زائد ووٹرز کا ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جو کارروائیاں کر رہا ہے، وہ نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔

سروے کے مطابق 10 میں سے 6 امریکی ووٹرز نے اسرائیل کو مزید اسلحہ بھیجنے کے امریکی فیصلے کی مخالفت کی، جب کہ یہ رجحان گزشتہ دو برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیلابی پانی کے تیز بہاؤ نے پارک ویو سٹی میں حفاظتی بند کو توڑ دیا، ریسکیو آپریشن جاری

اس سے قبل ایک اور سروے میں بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں امریکی عوام کی حمایت سامنے آئی تھی۔

عالمی ادارے اپسوس کے ایک جائزے کے مطابق 58 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے، جب کہ 33 فیصد نے اختلاف کیا اور 9 فیصد ووٹرز غیر جانب داررہے۔

Scroll to Top