فیس بک اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو صارفین کے لیے شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے۔
معروف جریدے فوربز کے مطابق ہیکرز جب کسی صارف کے لاگ اِن ڈیٹا اور ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو وہ نہ صرف اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول کر لیتے ہیں بلکہ صارف کو لاگ اِن سے بھی باہر کر دیتے ہیں۔
ہیکرز متاثرہ صارف کے اکاؤنٹ سے اس کے دوستوں اور خاندان والوں کو جعلی پیغامات بھیج کر مالی دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور دیگر فراڈ میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
اگر صارف نے ایک ہی پاس ورڈ مختلف ویب سائٹس یا بینکنگ سروسز میں استعمال کیا ہو تو ہیکرز کو حساس معلومات تک مزید رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی صارف کو شبہ ہو کہ اس کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہے تو فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔ علامات میں لاگ اِن کی کوشش میں ناکامی، پروفائل کی غیر متوقع تبدیلیاں، یا دوستوں کو مشکوک پیغامات بھیجنا شامل ہیں۔
اگر اکاؤنٹ ہیک ہو چکا ہو اور لاگ اِن نہ ہو پا رہا ہو تو فیس بک کے مخصوص ہیلپ پیج کے ذریعے اکاؤنٹ کی بازیابی ممکن ہے، جو عمومی طور پر چند دنوں میں مکمل ہو جاتی ہے۔
اگر اکاؤنٹ تک رسائی موجود ہو تو پاس ورڈ اور سیکیورٹی سیکشن میں جا کر لاگ اِن ڈیوائسز کا جائزہ لیں، مشکوک ڈیوائسز کو لاگ آؤٹ کریں اور مضبوط نیا پاس ورڈ سیٹ کریں۔
یہ بھی پڑھیں : آئی فون 17 سیریز کی سب سے خاص بات کیا ہے؟ تفصیلات جانئے
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ پاس ورڈ کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایک مضبوط پاس ورڈ میں بڑے اور چھوٹے حروف، اعداد اور خاص علامات شامل ہونی چاہئیں، اور پاس ورڈ مینیجر کا استعمال بہتر سیکیورٹی کے لیے مفید ہے۔ نیز، پرائیویسی سیٹنگز کو بہتر بنانا، اجنبی افراد کی فرینڈ ریکوئسٹ مسترد کرنا، مشکوک لنکس سے گریز کرنا اور VPN استعمال کرنا بھی تجویز کیا جاتا ہے۔
اگر اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو فوری طور پر دوستوں اور اہلِ خانہ کو مطلع کریں تاکہ وہ دھوکہ یا فراڈ کا شکار نہ ہوں، کیونکہ ہیکرز اکثر متاثرہ اکاؤنٹ سے قریبی افراد کو پیغامات بھیج کر ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر ہیک شدہ اکاؤنٹس بازیاب ہو جاتے ہیں اور ان میں موجود تصاویر، پوسٹس اور کانٹیکٹس محفوظ رہتے ہیں، تاہم وہ اکاؤنٹس جو طویل عرصے سے غیر فعال ہوں یا جن کی ملکیت ثابت نہ ہو سکے، مستقل طور پر بند کیے جا سکتے ہیں۔





