لاہور (پختون ڈیجیٹل) مشیر برائے قانون و انصاف پنجاب بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت الیکٹورل ریفارمز پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عمل کسی ایک فرد کی رہائی سے مشروط نہیں ہو سکتا۔
نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر پہلے ہی انتخابی اصلاحات پر بات چیت کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف صرف بیرسٹر گوہر کی رہائی کو مذاکرات کی شرط بنانا چاہتی ہے تو یہ حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید خود ان کی رہائی بھی مطلوب نہیں رہی۔
بیرسٹر عقیل ملک نے 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف میں آنے والی تبدیلیوں کو نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا “مثبت یوٹرن” خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت روزِ اول سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھا کر قومی معاملات کے حل کی خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افسران کے تقرر و تبادلے،نوٹیفیکشن جاری
سیلاب متاثرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے متاثرین کے لیے کیمپس قائم کیے ہیں اور وزیراعلیٰ مریم نواز خود فیلڈ میں موجود ہیں۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت جو اقدامات کرنے چاہیئے تھے، وہ نہیں کیے گئے۔
قانون سازی سے متعلق گفتگو میں بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ وفاقی سطح پر نئی قانون سازی کے تحت تینوں سروسز چیفس کی مدتِ ملازمت اب تین کے بجائے پانچ سال کر دی گئی ہے، اور موجودہ آرمی چیف کی مدت 2027 تک مقرر ہو چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون گزشتہ سال نومبر میں بن چکا ہے، لہٰذا اب اس پر مزید بحث کی گنجائش نہیں۔





