لاہور (پختون ڈیجیٹل) پنجاب میں حالیہ سیلابی ریلوں نے صوبے کی زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں 13 لاکھ 26 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ زیرِ آب آ کر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اس کے باعث غذائی قلت اور زرعی بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق فیصل آباد ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 3 لاکھ 23 ہزار 215 ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرِ آب آئیں۔
گوجرانوالہ ڈویژن میں 2 لاکھ 62 ہزار 862 ایکڑ جبکہ گجرات میں 2 لاکھ 38 ہزار 416 ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہوا ہے۔
اسی طرح ساہیوال میں 1 لاکھ 37 ہزار، بہاولپور میں 1 لاکھ 45 ہزار، لاہور میں 99 ہزار 421، ملتان میں 58 ہزار 439، ڈی جی خان میں 49 ہزار 165 اور سرگودھا میں 12 ہزار 73 ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں سیلاب متاثرین کے لیے چیریٹی میچ، کتنی رقم جمع ہوئی؟ تفصیلات جاری
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس، دھان، گنے اور چارے کی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کا روزگار خطرے میں ہے بلکہ صوبے کی غذائی خودکفالت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
کسان طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے اور حکومتی امداد کا منتظر ہے۔ ماہرین نے حکومت سے فوری بحالی، مالی امداد اور آئندہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے جامع منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ زرعی شعبہ کو اس تباہی سے جلد نکالا جا سکے۔





