حالیہ دنوں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعد ایک غیر معمولی منظر نے عالمی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر توجہ حاصل کر لی۔
ملاقات کے فوراً بعد کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں کِم جونگ اُن کے سیکیورٹی اہلکار نہ صرف اُس کرسی کو صاف کرتے دکھائی دیتے ہیں جس پر کم بیٹھے تھے بلکہ ٹیبل، پانی کا گلاس، حتیٰ کہ میز پر رکھے دیگر اشیاء تک کو اٹھا کر ہٹا دیا گیا۔یہ منظر سوشل میڈیا پر صارفین کی حیرت کا باعث بنا ہوا ہے، جبکہ ماہرین اسے ’’انتہائی حساس حفاظتی پروٹوکول‘‘قرار دے رہے ہیں۔
کریملن رپورٹر الیگزینڈر یونسشیف کے مطابق، کم کے دو معاونین نے مذاکرات ختم ہونے کے بعد پورے کمرے میں اُن اشیاء کو خاص طور پر صاف کیا جنہیں شمالی کوریائی سربراہ نے چھوا تھا۔ یہاں تک کہ گلاس میں بچا ہوا پانی بھی واپس لے جایا گیا تاکہ کوئی بھی غیر ملکی ایجنسی اس کا تجزیہ نہ کر سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات محض صفائی کے لیے نہیں بلکہ کم جونگ اُن کی صحت اور ڈی این اے سے متعلق معلومات کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قدر حساس پروٹوکول کا مقصد غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ممکنہ جاسوسی سے بچاؤ ہوتا ہے۔
جاپانی اخبار نکّئی کے مطابق، کم جونگ اُن اپنے غیر ملکی دوروں میں نہ صرف مخصوص سبز بکتر بند ٹرین میں سفر کرتے ہیں بلکہ اپنا ذاتی ٹوائلٹ بھی ساتھ رکھتے ہیں تاکہ کوئی ان کے فضلے سے طبی معلومات حاصل نہ کر سکے۔
ماضی کی مثالیں: یہ پہلا موقع نہیں2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ویتنام میں ملاقات کے بعد بھی کم کے سیکیورٹی عملے نے ہوٹل کے کمرے کی گھنٹوں صفائی کی، حتیٰ کہ بیڈ کا گدا بھی تبدیل کیا گیا۔2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن سے ملاقات سے قبل ان کی کرسی اور میز پر سینیٹائزر چھڑک کر مکمل صفائی کی گئی۔2023 میں ایک اور پیوٹن ملاقات کے دوران کم کی کرسی کو سینیٹائز کرنے کے بعد میٹل ڈیٹیکٹر سے بھی اسکین کیا گیا
مائیکل میڈن، جو امریکا میں قائم اسٹِمسن سینٹر سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ یہ سیکیورٹی پروٹوکول کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل کے دور سے رائج ہیں۔ ان کا کہنا ہے’’یہ سب کچھ شمالی کوریا کی سیکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی اتحادی یا دشمن ملک کو سربراہِ مملکت کی صحت یا جسمانی ساخت سے متعلق معلومات نہ مل سکیں۔





