اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر قومی اور عالمی سطح پر پیش آنے والے اہم واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے بعد دنیا اور خطے میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے، جن میں غزہ پر مظالم، پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگ میں تاریخی فتح، شدید نوعیت کے سیلاب، دہشتگردی کے خلاف جنگ، اور حالیہ قطر پر اسرائیلی حملہ شامل ہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ ان تمام واقعات کے دوران یا بعد میں کیا کسی نے عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان معاملات کا کوئی ذکر دیکھا؟
ہاں یہ ضرور سنا ہوگا کہ دیسی مرغی نہیں مل رہی، قید میں تنہائی ہے، ٹریڈمل دستیاب نہیں، فلاں ملاقات نہیں ہو رہی، بیگم سے ملاقات کی اجازت نہیں، خواجہ آصف نے تنقیدی انداز اپناتے ہوئے کہا۔
یہ بھی پڑھیں : نوجوانی میں سفید بالوں سے پریشان لاکھوں افراد کے لیے بڑی خوشخبری
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ذاتی مسائل اپنی جگہ ہیں، مگر ایک قومی رہنما ہونے کے ناطے عمران خان کو قوم کے دکھ سکھ میں شریک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکبھی تو ملک و ملت کے مسائل پر بات کر لو، فلسطین میں مظالم کی مذمت کر لو، سیلاب سے متاثرہ لوگوں پر دکھ کا اظہار کر لو، شہداء کے لیے دعائیہ کلمات ہی کہہ دو۔
خواجہ آصف نے آخر میں عمران خان کے مسلم دنیا کی قیادت کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر واقعی کوئی قائدانہ صلاحیت ہے تو اس کا عملی اظہار بھی ہونا چاہیے۔





