رانی عندلیب
اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے “تعلیم بچاؤ مہم” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پشاور پریس کلب میں اسلامی جمیعت طلبہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے تحت 18 ستمبر کو صوبے بھر میں تعلیمی اداروں اور پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے جبکہ 12 اکتوبر کو پشاور پریس کلب کے سامنے بڑا احتجاج ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔
اسلامی جمعیتِ طلبہ کے مطابق اسکولوں کی نجکاری کے بعد اب کالجوں کی آؤٹ سورسنگ کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے اور اس حوالے سے مجوزہ فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ صوبے میں 4.9 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ کالجز اور جامعات مالی و انتظامی بحران کا شکار ہیں ایسے حالات میں نجکاری یا آؤٹ سورسنگ جیسے اقدامات تعلیم اور عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
تنظیم نے بی ایس پروگرام کے خاتمے، تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر، عمارت اور فرنیچر کی کمی اور ایم ڈی کیٹ فیس میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا مطالبہ ہے کہ بڑے فیصلے کرنے سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور اصلاحات کو محدود پیمانے پر بطور پائلٹ پروجیکٹ آزمایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: سیکرٹری تعلیم خیبرپختونخوا کو اپنے دفتر میں یرغمال بنانے کےخلاف ملازمین سراپا احتجاج
اسلامی جمعیت طلبہ نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کے اگلے مرحلے میں وزیر اعلیٰ، گورنر اور صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔





