پشاور: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ملکی معیشت کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے معاشی بہتری کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ اس وقت 158,000 انڈکس کی سطح پر ہے، جس کے مطابق مارکیٹ کیپٹلائزیشن 66 ارب ڈالر ہے۔ ان کے مطابق 2017 میں اسٹاک مارکیٹ کا انڈکس 50,000 تھا اور اس وقت مارکیٹ کیپٹلائزیشن 100 ارب ڈالر تھی۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ جن سرمایہ کاروں نے 2017 میں شیئرز خریدے تھے، آج بھی انہیں ڈالر کے لحاظ سے 34 فیصد کا نقصان ہو رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معیشت میں حقیقی بہتری نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم موجودہ حکومت معیشت کے مستحکم ہونے کا دعویٰ تو کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں غربت اور بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ رپورٹ میں بیان کیے گئے اعداد و شمار نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مؤقف کی تائید کر دی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل عوام کی حالتِ زار کو بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گوگل کا پاکستان میں ’اے آئی پلس پلان‘ متعارف
انہوں نے کہا کہ عمران خان مسلسل ان حقائق کی نشاندہی کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے موجودہ حکمران زمینی حقائق سے مکمل طور پر غافل نظر آتے ہیں۔





