ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کوخوش آئند قرار دیتےہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے ساتھ مل کر علاقے کی سلامتی کے لیے اچھا آغاز ہے۔
خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شام، یمن اور قطر میں بھی حملے کیے۔ دشمن ایرانی معاشرے میں اختلاف ڈالنے میں ناکام رہا ہے، ایرانی قوم نے پابندیوں اور میڈیا مہم کے باوجود فوج کے ساتھ یکجہتی دکھائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے سائنسدانوں اور رہنماؤں کو قتل اور نشانہ بنایا گیا تاہم ایران حملہ آوروں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا بلکہ مضبوط ہوگا۔
پزشکیان نے زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں اور اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی ٹرائیکا نے امریکی پشت پناہی میں ایران پر پابندیاں عائد کیں۔ قطر پر اسرائیل کے مبینہ حملے کی وہ سختی سے مذمت کرتے ہیں اور ایران کے خلاف دوہرے معیار کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیا کپ: بنگلہ دیش کا بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ سلامتی طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں ہوتی اور ایران اپنے قوانین کے تحت جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرتا۔





