قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کے حامی رہے ہیں لیکن حالیہ رویے نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی بار تنازع نہیں ہوا، لیکن یہ نہیں سنا ہوگا کہ ہاتھ نہ ملائے جائیں۔ انہوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی بھارت کا منفی چہرہ دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔
شاہد آفریدی نے پاکستان کے نوجوانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن انہیں بہتر مواقع نہ ملنے کے باعث ان کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو پلیٹ فارم دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں نجی شعبے کا کردار کلیدی ہے۔ شمالی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی ناگزیر ہے، اور ہر شہری کو ملکی ترقی کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔
شاہد آفریدی نے میڈیا کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ میڈیا ہمیشہ اہم موڑ پر مثبت کردار ادا کرتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کسی ایک صوبے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے چیلنج ہیں، اس لیے اجتماعی سوچ اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضم اضلاع کے ڈاکرز کی واجب الادا تنخواہیں فوری ادا کی جائیں، میاں افتخار حسین
شاہد آفریدی نے حالیہ دورہ سوات اور باجوڑ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں کی مقامی انتظامیہ سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں راشن کی فوری ضرورت نہیں، بلکہ وہ وہاں گھروں کی تعمیر کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں لوگ “مچھلی پکڑنا سیکھیں” نہ کہ ہمیشہ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے سہارے رہیں۔





