جو جماعت قومی مفاد کے خلاف ہو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کیسے کر سکتے ہیں؟ رانا ثناء

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے اس وقت تک کسی سمجھوتے یا ہم آہنگی کے حق میں نہیں جو قومی مفاد کے منافی رویے اپنائیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت مسلسل کوشاں ہے اور معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی پہچان دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی واقعی قوم اور ملک کے لیے مخلص ہے تو اسے مل کر بیٹھنے اور مسائل حل کرنے کا راستہ اپنانا چاہیے —اس سلسلے میں وزیراعظم پہلے ہی میثاقِ استحکام کی دعوت دے چکے ہیں۔

مشیرِ وزیراعظم نے مزید کہا کہ مقتدرہ کو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رویہ اپنانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی جمہوریت اور گفت‌وگو کی بجائے پرتشدد روش کو ترجیح دیتی ہے اور بانی پی ٹی آئی اس وقت تک باہر نہیں آئیں گے جب تک وہ انتشار پھیلانے کی پالیسی ترک نہیں کرتے۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ متعدد بار مذاکرات کی پیشکش کی گئی مگر قبولیت نہ ہوئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی مختلف مقدمات کی وجہ سے قید میں ہیں اور اگر انہیں ضمانت مل جاتی ہے تو وہ معاملات حل کرنے کے لیے آگے آ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سوات:صوبائی وزیرفضل حکیم اور شاہی خاندان کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا

رانا ثناءاللہ نے یہ انتباہ بھی کیا کہ بانی کے سوشل میڈیا (ایکس) اکاؤنٹ پر جو مواد خود بخود شائع ہوتا ہے یا شیئر کیا جاتا ہے، وہ ملک مخالف عناصر کے مفاد میں ہے، اس پر کارروائی کی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ علی امین جو ان کے بقول دہشتگردانہ معاونت کے معاملات میں ملوث ہیں بغیر کسی شرائط کے گھر واپس نہیں جا سکتے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

Scroll to Top