جنگ زدہ غزہ کے مستقبل سے متعلق بین الاقوامی سطح پر جاری مشاورت میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
غزہ کی ممکنہ عبوری انتظامیہ کی قیادت سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو سونپی جا سکتی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات سے متعلق مشاورت کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور بلیئر اس میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ٹونی بلیئر جو ماضی میں امریکی قیادت کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں اب اس نئے منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ میں ممکنہ طور پر کلیدی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ بات جمعے کو سامنے آئی کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے امن منصوبے میں شریک ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹونی بلیئر کئی بار وائٹ ہاؤس میں ہونے والی مشاورتی ملاقاتوں میں شریک ہو چکے ہیں جہاں صدر ٹرمپ، ان کے داماد جیرڈ کشنر اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ میں اس وقت لیبر پارٹی کی حکومت ہے، مگر امریکی انتظامیہ نے اپنی ترجیحات میں برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے سابق رہنما کو ترجیح دی ہے۔
سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر جو ماضی میں مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں سرگرم رہے ہیں، ایک بار پھر غزہ کے بعد از جنگ انتظام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وہ امریکہ کے مجوزہ منصوبے میں شامل ہو سکتے ہیں جس کے تحت غزہ میں ایک عبوری بین الاقوامی اتھارٹی قائم کی جائے گی۔
یہ اتھارٹی اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت پانچ سال کے لیے قائم ہوگی جس کے بعد اختیارات فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے، ابتدائی طور پر اس کا مرکز مصر میں ہوگا اور حالات بہتر ہونے پر غزہ منتقل کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: روس مذاکرات کے لیے تیار، نیٹو کو روس پر حملے کی سازش کا ادراک ہونا چاہیے، سرگئی لاروف
اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے بلیئر کو اس کردار کے لیے موزوں قرار دیا ہے جبکہ بلیئر کا ادارہ انسٹیٹیوٹ فار گلوبل چینج تاحال اس حوالے سے خاموش ہے۔





