پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ! پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کو جاری نوٹسز معطل

پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ! پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کو جاری نوٹسز معطل

پشاور ہائی کورٹ نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کو جاری کیے گئے نوٹسز عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے متعلقہ حکام بشمول نیشنل سائبر کرائم ونگ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صحافیوں کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران سنایا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میرے مؤکل پیشہ ور صحافی ہیں، جنہیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے نوٹسز بھیجے گئے، لیکن ان میں نہ تو کسی جرم کی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص الزام بتایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشاور ہائی کورٹ اس نوعیت کے نوٹسز ماضی میں بھی معطل کر چکی ہے اور عدالت کے واضح احکامات پہلے سے موجود ہیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد صحافیوں کو دیے گئے تمام نوٹسز معطل کر دیے،نیشنل سائبر کرائم اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے؛اور آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب صحافتی تنظیمیں اور آزادی اظہار کے علمبردار ادارے پیکا ایکٹ کے ممکنہ غلط استعمال پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ عدالت کا یہ حکم صحافیوں کے لیے ایک اہم قانونی ریلیف تصور کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top