کراچی: کرپشن کیس میں سزا یافتہ اسپنر آصف آفریدی کی 39 سال کی عمر میں قومی ٹیم میں واپس بھرتی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
پی سی بی نے فروری 2023 میں ان پر دو سال کی پابندی عائد کی تھی، تاہم محض ایک سال بعد انہیں دوبارہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ آصف پر اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعات 2.4.10 اور 2.4.4 کی خلاف ورزی کا الزام تھا، جن میں شریک کو ترغیب دینا اور کرپشن آفر کی رپورٹ نہ کرنا شامل ہیں۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ تاحیات پابندی بھی ہو سکتی تھی، مگر بورڈ نے ہلکی سزا دی۔
آصف آفریدی نے کے پی ایل میں راولاکوٹ ہاکس کی نمائندگی کی، لیکن شکوک و شبہات کی بنا پر ان کی کارکردگی کو سخت نگرانی کا نشانہ بنایا گیا۔ پہلے میچ میں انہوں نے 3 اوورز میں 35 رنز دیے، بعد میں 4 اوورز میں 52 رنز دیے، اور بیٹنگ میں بھی ناکام رہے۔
حیران کن طور پر انہیں قومی ٹی20 کپ کی ٹیم میں شامل کیا گیا، جہاں انہوں نے 24 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، اور اس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور جلسے کی خفیہ کہانی: علی امین کو پوری منصوبہ بندی معلوم تھی، اجمل وزیر
اس کے علاوہ، ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر نے 2021 میں آصف پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے قائد اعظم ٹرافی کے دوران غیر قانونی مہارتوں کی پیشکش کی تھی، جس پر پی سی بی نے تحقیقات بھی کی تھیں۔
اگرچہ آصف آفریدی نے ویڈیو بیان میں اعتراف کیا تھا، مگر اس کے باوجود انہیں PSL 2022 ڈرافٹ میں جگہ ملی۔ اب انہیں 39 سال کی عمر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا، حالانکہ رواں سال ان کی کارکردگی معمولی رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بااثر سلیکٹر نے ان کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔





