صوابی: صوابی میں ترکئی ہاؤس پہنچنے پر سابق صوبائی وزیر ابتدائی تعلیم فیصل ترکئی نے ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بات پر مضبوطی سے کھڑے ہیں اور عمران خان کے نظریے کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی عزت اور پگھڑی کو وزارت سے زیادہ اہم سمجھا اور اس عزم کے ساتھ عوام کے لیے آواز اٹھائی۔
فیصل ترکئی نے بتایا کہ انہوں نے ڈیڑھ سال کی وزارت کے دوران اپنے ساتھیوں کو کوئی نوکری نہیں دی، باوجود اس کے کہ وہ کئی مہینے جیلوں میں رہے اور ان کے پاس متعدد درخواستیں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اختیار ہوتا تو کابینہ سے ایک سال قبل استعفی دے دیتے، لیکن عوام کے لیے کھڑے رہے تاکہ کوئی نہ کہے کہ انہوں نے کوشش نہیں کی۔
انہوں نے کہا صوابی میں ڈیڑھ سال میں ایک بھی کلاس فور کی نوکری نہیں دے سکتا، عاقب خان ایک بھی نوکری نہیں دے سکا، پھر ہم جیلوں میں کیوں رہے؟ ہم کیوں بھاگ دوڑ کرتے رہے؟ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عمران خان اور ان کی بہنوں کی آزادی کے لیے باہر نکلیں۔
یہ بھی پڑھیں : نیشنل پریس کلب واقعے پر وزیر داخلہ کی فوری انکوائری، آئی جی سے رپورٹ طلب
ترکئی نے کہا کہ انہوں نے اپنی تربیت کی بنیاد پر عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ڈیڑھ سال میں کیے گئے کاموں اور اصلاحات کو فیس بک پر بھی شیئر کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ چور یا کرپٹ نہیں ہیں اور اپنے کام میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا میں نے باہر سے پڑھ کر آیا ہوں اور اپنی مٹی میں زندگی گزار رہا ہوں۔ عمران خان کی کال پر میں اور میرے دوست کٹی پہاڑی میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ تھے اور آج بھی ایک کال پر نکلنے کو تیار ہوں۔





