شمالی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر میرانشاہ میں کلاس فور ملازمین، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور پیرا میڈیکس نے تنخواہوں کی بندش کے خلاف پریس کلب کے باہر انوکھا احتجاج کیا۔
مظاہرین نے ڈھول اور بانسری بجا کر حکام کی بے حسی کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے مطالبات دہرا کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پانچ سو سے زائد ملازمین کی تنخواہیں کئی ماہ سے فزیکل ویریفیکیشن کے نام پر روک دی گئی ہیں، جس کے باعث ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے فزیکل ویریفیکیشن کے عمل کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن متعلقہ حکام مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور ان کی مشکلات کا کوئی سنجیدہ حل نہیں نکالا جا رہا۔
ملازمین نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فزیکل ویریفیکیشن کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے اور تنخواہیں بحال کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر چھ اکتوبر تک ویریفیکیشن کا عمل شروع نہ ہوا تو پیر سے بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کور کمانڈر کا جامعہ پشاور کا غیر معمولی دورہ، اہم ایشوز پر خصوصی خطاب
احتجاجی مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور پرامن انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا۔





