دوحہ: ریاستِ قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے سے متعلق معاہدے کے امکان کو خوش آئند قرار دیتی ہے اور منصوبے میں پیش کردہ تبادلے کے فریم ورک کے تحت تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔
قطر کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیانات کی حمایت بھی کرتا ہے جن میں یرغمالیوں کی بہ حفاظت اور جلد رہائی کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ شامل ہے۔
دوحہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کوششوں سے ایسے تیز رفتار نتائج حاصل ہوں گے جو غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جاری خونریزی کا خاتمہ ممکن بنائیں گے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر عرب جمہوریہ مصر کی ثالثی میں اپنے شراکت داروں اور ریاستہائے متحدۂ امریکہ کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے کام شروع کر چکا ہے، تاکہ ایک جامع راستہ سامنے آ کر جنگ بندی اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا حماس کے امن منصوبے پر مثبت ردعمل، اسرائیل سے غزہ پر بمباری فوری روکنے کا مطالبہ
قطری حکام نے واضح کیا کہ ان کا مقصد فریقین کے مابین قابلِ عمل اور محفوظ طریقے سے معاملات طے کرنا ہے تا کہ یرغمالیوں کی رہائی، انسانی امداد کی رسائی اور غزہ کے مستقبل سے متعلق دیرپا حل کی راہ ہموار ہو سکے۔





