خیبرپختونخوا کابینہ نے 9 مئی توڑ پھوڑ کیس واپس لینے کی منظوری دیدی

خیبرپختونخوا کابینہ نے 9 مئی توڑ پھوڑ کیس واپس لینے کی منظوری دیدی

خیبرپختونخوا حکومت نے 9 مئی کو پیش آنیوالے توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے کیس کو واپس لینے کی منظوری دیدی ہے۔ کابینہ کی جانب سے اس اہم فیصلہ کے بعد حکومت نے اس کیس کی قانونی کارروائی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

قومی اخبار(روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک پراسیکیوٹر کے تبادلے کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام اللہ کو 9 مئی کے کیس کے لیے اسپیشل پراسیکیوٹر مقرر کر دیا ہے۔ انعام اللہ نے ایڈیشنل ہوم سیکریٹری کا خط عدالت میں جمع کراتے ہوئے کیس واپس لینے کی درخواست کی ہے۔

عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جہاں اس معاملے کا حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ 9 مئی کو ہونے والے اس واقعے میں کارکنوں، راہگیروں اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ اس کیس میں معروف سیاسی شخصیات سمیت متعدد ملزمان شامل ہیں جن میں ظاہر شاہ طورو اور رکن قومی اسمبلی مجاہد خان بھی شامل ہیں۔

یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی طرف سے سیاسی اور معاشرتی استحکام کو یقینی بنانے کی کوششوں کے تحت لیا گیا ہے۔

Scroll to Top