وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما اور سینیٹر ایمل ولی خان کی سیکیورٹی ہرگز واپس نہ لی جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ایمل ولی خان کے خاندان کو ماضی میں دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، اور ان کی جان کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی نیوز)کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’کسی کی جان پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اصولوں کی سیاست کرتے ہیں اور کسی سیاسی اختلاف کے باوجود کسی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر ایمل ولی خان کی سیکیورٹی بند نہیں کی گئی، اور وہ اب بھی ان کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔
علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا میں اختیارات کا ناجائز استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کے اس مؤقف کو سیاسی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں اختلافات کے باوجود انسانی جان کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔





