ملک میں گندم کے بحران کا قوی امکان ، قیمت کہاں تک جائے گی؟جانئے

ملک میں گندم کے بحران کا قوی امکان ، قیمت کہاں تک جائے گی؟جانئے

ملک میں شدید سیلابی تباہ کاریوں کے باعث چاروں صوبوں میں گندم کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ طلب کے مقابلے میں گندم کی رسد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل(اے آر وائی )کے مطابق چیئرمین پاکستان اتحاد خالد حسین باٹھ نے گندم کی قلت اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔خالد حسین باٹھ نے بتایا کہ سندھ میں گندم کی قیمت فی من 4000 روپے، پنجاب میں 3900 روپے جبکہ کوئٹہ میں 4500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی گندم کی فصل آٹھ ماہ بعد آئے گی، اور سیلاب کی وجہ سے کاشتکاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے گندم کی قیمتیں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی کا امکان ہے۔

حکومت کی جانب سے گندم کے ذخائر کی دستیابی کے دعوے کے جواب میں خالد حسین باٹھ نے وفاقی وزیر کو چیلنج کیا ہے کہ وہ کہیں بھی ان سے اس موضوع پر مباحثہ کریں، کیونکہ حکومت کی طرف سے گندم کی سپورٹ پرائس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے گندم مہنگی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دوسرے صوبوں کو گندم کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، جو ایک غیر منصفانہ اقدام ہے اور دیگر صوبوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق، کراچی میں گذشتہ چند روز میں 100 کلو گرام گندم کی بوری کی قیمت میں 2000 روپے سے زائد اضافہ ہوا ہے، اور اب یہ 7200 روپے سے بڑھ کر 9300 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 50 کلو آٹے کا تھیلا کراچی میں 5000 روپے سے زائد قیمت پر دستیاب ہے۔ پشاور میں 100 کلو گرام گندم بوری کی قیمت 9800 روپے، کوئٹہ میں 9600 روپے جبکہ لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں 900 سے 1000 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ تمام عوامل ملک میں گندم اور آٹے کے بحران کی شدت کو واضح کرتے ہیں اور آنے والے دنوں میں عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

Scroll to Top