پشاور:عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے ترجمان ارسلان خان ناظم نے ایمل ولی خان کو دی جانے والی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعلٰی کے حالیہ بیان پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ آئی جی نے وزیر اعلیٰ کے حکم کو صرف ماننے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ڈی آئی جی مردان نے وزیر اعلیٰ کو بے وقوف بھی بنایا ہے۔
ارسلان خان ناظم نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ ان کے دو اضلاع کے پولیس اہلکاروں کی فہرستیں کس نے فراہم کیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ ایمل ولی خان کے ساتھ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو پوری دنیا دیکھ چکی ہے اور کیا یہ وہی اہلکار ہیں جن کی تصاویر جاری کی گئی ہیں؟
انہوں نے خانمائی پولیس اسٹیشن کے کل 30 اہلکاروں میں سے 8 کو ولی باغ کے سامنے فوٹو سیشن کے لیے کھڑا کیا گیا جبکہ فوٹو سیشن کے بعد پولیس اہلکار وہاں سے واپس چلے گئے۔
ارسلان خان ناظم نے وزیر اعلیٰ سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے بھی پختونخوا پولیس ایمل ولی خان کے ساتھ تعینات نہیں تھی؟
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ “نام مانگنے” کے ڈرامے کے ذریعے وفاقی حکومت کے سہولت کار بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ پولیس ان کی مرضی کے مطابق کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن کی ہدایت پر خیبرپختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر ہری پور کے تبادلے کااعلامیہ واپس لے لیا
ارسلان خان ناظم نے کہا کہ ہم نے پہلی رات وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا تھا، مگر اب وہ ہائبرڈ نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔





