سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سرکاری اداروں کے سربراہان کی بھاری تنخواہوں اور مراعات کا نوٹس لے لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے سرکاری محکموں کے سی ای اوز اور دیگر اعلیٰ افسران کی تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ کئی سی ای اوز کی تنخواہیں مختصر عرصے میں دوگنا ہو چکی ہیں۔
نجی ٹی وی سماء کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیشنل انشورنس کمپنی کے سی ای او کو ماہانہ 30 لاکھ روپے تنخواہ دی جاتی ہے جبکہ اسٹیٹ لائف انشورنس کے چیئرمین کی تنخواہ بھی اسی سطح پر ہے۔ اس کے علاوہ افسران کو 10، 10 ماہانہ بونس بھی دیے جاتے ہیں، جنہیں کارکردگی اور ٹارگٹ پورے کرنے سے مشروط کیا جانا چاہیے۔
وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ تنخواہوں کے علاوہ گاڑیاں، دو سیکیورٹی گارڈز، کلب ممبرشپ، 500 لیٹر فیول، مفت فیملی میڈیکل، گروپ انشورنس، موبائل فون اور لیپ ٹاپ جیسی مراعات بھی دی جاتی ہیں۔
کمیٹی کی رکن انوشے رحمان نے کہا کہ بعض افسران کی تنخواہیں چھ ماہ کے اندر دوگنی ہو جاتی ہیں، اور اگر تنخواہ اتنی زیادہ رکھی جاتی ہے تو اسے اشتہارات میں واضح کرنا ضروری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ این آئی سی ایل کے سابق سی ای او کی تنخواہ 2022 میں 15 لاکھ تھی جو 2025 تک 28 لاکھ 80 ہزار روپے تک پہنچ گئی، اور یہ اضافہ بورڈ کی منظوری سے کیا جاتا ہے۔
کمیٹی چیئرپرسن نے کہا کہ ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک اور دیگر سرکاری ادارے قواعد پر عمل درآمد نہیں کر رہے، اور بھاری تنخواہیں اور مراعات ناقابل قبول ہیں، جس کے لیے ایس او ای ایکٹ میں ترمیم ضروری ہے۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے تنخواہوں کا تین سالہ فریم ورک اشتہارات میں شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ شفافیت قائم رہے۔
انوشے رحمان نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کی بھرتی معیار اور ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے، اور وزارت تجارت نے آٹھ ذیلی اداروں کے افسران کی تنخواہوں و مراعات کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کر دی ہیں۔





