الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکینِ اسمبلی کو آزاد قرار دے دیا ہے، جس سے صوبے کی سیاسی صورتحال نئی سمت اختیار کر گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل (سما نیوز)کے مطابق الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کی پارٹی پوزیشن جاری کر دی ہے۔ جاری کردہ فہرست کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ اراکین کو سپریم کورٹ کے 25 اگست 2024 کے فیصلے کی روشنی میں آزاد ظاہر کیا گیا ہے۔ فہرست میں صرف سنی اتحاد کونسل کے ایک رکن کو پارٹی نمائندہ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارٹی پوزیشن اور آئندہ سیاسی صف بندی پر کئی سوالات جنم لے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت صوبے میں سیاسی غیر یقینی کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
ادھر، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے گزشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دے دیا، جو اس وقت گورنر فیصل کریم کنڈی کی منظوری کا منتظر ہے۔ ذرائع کے مطابق، گورنر استعفیٰ پر آئینی و قانونی نکات پر مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد کردہ نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومتی اور پارٹی سطح پر مشاورتی ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے تاکہ نئی سیاسی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
سیاسی سرگرمیوں کے سلسلے میں خیبرپختونخوا کے قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ نے بھی گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور اسمبلی کی آئندہ صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی آج اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں تمام اپوزیشن جماعتیں آئندہ لائحہ عمل اور حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے مشاورت کریں گی۔
صوبے میں پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل کے باعث آئندہ چند روز خیبرپختونخوا کی سیاست میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





