پشاور: پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش نے دونوں جانب کے عوام کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
پشاور میں ٹماٹر کی قیمت 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دوسری طرف افغانستان میں اشیائے خورونوش کی قلت نے وہاں کے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان سرحد سے ٹماٹروں کی ترسیل معطل ہونے کے بعد پشاور کی منڈیوں میں ٹماٹر کی شدید قلت دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے باعث قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔
ایرانی ٹماٹروں کی فراہمی بھی متاثر ہونے سے افغانی ٹماٹر کی طلب میں مزید اضافہ ہوا، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑا ہے۔
ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو خواتین کو بھی پریشان کر دیا ہے، جس کے باعث شہریوں نے متبادل کے طور پر دہی اور دیگر اشیاء کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں تجارتی سرگرمیوں کی معطلی سے نہ صرف ضروری اشیاء کی فراہمی رُکی ہوئی ہے بلکہ مقامی مارکیٹوں میں آٹا، چینی، تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق مسلسل تجارتی رکاوٹوں کے باعث افغان کرنسی پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ روز افغانی کی قدر میں مزید ایک روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے وہاں کی معیشت کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان کی جانب سے جارحیت، وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرلیا، اہم فیصلے متوقع
بارڈر کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور تجارتی رکاوٹوں نے دونوں ملکوں کی عوام کو پریشان کر دیا ہے، اور اگر صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی اور قلت کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔





