غزہ: اسرائیلی افواج کی جانب سے رفح بارڈر کو جمعرات کے روز بھی بند رکھنے کے باعث سینکڑوں ٹن امدادی سامان آج بھی محصور فلسطینیوں تک نہ پہنچ سکا۔
مصر کی سرحد پر امدادی ٹرکوں کی قطاریں طویل تر ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ بارڈر کھولنے کی اجازت نہ ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ نے اسرائیل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ رفح کراسنگ کو فوری طور پر کھولنے کی اجازت دے تاکہ انسانی بنیادوں پر درکار اشیاء ، خصوصاً خوراک، پانی، اور ادویات — بروقت متاثرہ علاقوں تک پہنچائی جا سکیں۔
رفح بارڈر جو کہ غزہ کا دنیا سے واحد زمینی رابطہ ہے، اس کی مسلسل بندش کے سبب انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ بارڈر بند ہونے سے نہ صرف امداد رک گئی ہے بلکہ زخمیوں کے انخلاء میں بھی شدید رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔
دوسری جانب سیز فائر کے باوجود اسرائیلی افواج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ آج بھی مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات میں کم از کم 3 فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق کچھ علاقوں میں فائرنگ، گھریلو عمارات کی تلاشی اور چھاپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں : صدر مملکت کی لیفٹیننٹ کرنل جنید شہید کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت
غزہ میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، جہاں مزید 29 لاشیں نکال کر اسپتالوں میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ان میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔





