خیبرپختونخوا کے حادثاتی وزیراعلیٰ نے قومی اجلاس میں شرکت کیوں نہ کی؟ اختیار ولی برس پڑے

اسلام آباد : وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی اہم قومی اجلاس میں عدم شرکت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے عوام دشمنی قرار دیا ہے۔

اختیار ولی نے کہا کہ قومی سطح کے اس اہم اجلاس کا مقصد چاروں صوبوں کو درپیش مسائل پر بات چیت کرنا تھا، بالخصوص افغان مہاجرین کی واپسی، آٹے اور گندم کی قلت، مہنگائی اور حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں جیسے حساس موضوعات پر غور ہونا تھا۔

تاہم خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اجلاس میں شرکت نہ کرکے نہ صرف ایک اہم موقع گنوایا بلکہ صوبے کے عوام کے مفادات کو بھی پس پشت ڈال دیا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا حادثاتی وزیراعلیٰ ابھی سے مسائل پیدا کر رہے ہیں، اجلاس میں شرکت نہ کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی پر مشاورت ہونی تھی، جو خیبرپختونخوا کے لیے ایک نہایت اہم مسئلہ ہے، مگر وزیراعلیٰ نے ذاتی سیاسی ترجیحات کو قومی مفادات پر فوقیت دی۔

اختیار ولی نے خبردار کیا کہ اگر صوبے میں آٹے کی قلت بڑھی یا افغان مہاجرین کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا، تو اس کی مکمل ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا ہمیں معلوم ہے آپ کا مسئلہ پاکستان نہیں، آپ کا مسئلہ عشقِ عمران خان ہے، جبکہ ہمارا مسئلہ عشقِ پاکستان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے آبائی ضلع سے اپناچیف سیکیورٹی آفیسر تعینات کر دیا

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے واضح کیا کہ ریاستی پالیسیوں سے ٹکراؤ کا راستہ صوبے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

جب نقصان ہوگا تو متاثر چار کروڑ عوام ہوں گے، وزیراعلیٰ نہیں، وہ تو آخر میں صرف واسکٹ تبدیل کر کے اور چادر کندھے پر رکھ کر چلے جائیں گے، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا۔

اختیار ولی کے بیان کو سیاسی حلقوں میں سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس سے خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

Scroll to Top