پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایڈووکیٹ جنرل کی وساطت سے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک باضابطہ خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ انہیں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سہیل آفریدی آئینی طور پر حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے پابند ہیں، اور کابینہ کی تشکیل، پالیسی سازی اور اہم انتظامی امور پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ناگزیر ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے پہلے ہی وزارت داخلہ، سیکریٹری داخلہ اور پنجاب حکومت سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت کے لیے رابطہ کیا گیا تھا، مگر تاحال کسی سطح پر مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب سے گندم کی ترسیل پر عائد پابندی جیسے اہم بین الصوبائی امور پر بھی بانی جماعت کے سربراہ سے مشورہ ضروری ہے، تاکہ فیصلے آئینی اور اخلاقی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاک افغان سرحد بند، پشاور کے ہسپتالوں میں افغان مریضوں کی آمد رک گئی
سہیل آفریدی نے امید ظاہر کی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اس آئینی و انتظامی نوعیت کے معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کریں گے تاکہ ملاقات کی راہ ہموار ہو سکے۔





