پاک افغان سرحد پر واقع اہم تجارتی گزرگاہ طورخم بارڈر ساتویں روز بھی بند ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور پیدل آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ سرحدی کشیدگی نے نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ عام شہریوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
بارڈر کی بندش کے باعث مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں طورخم شاہراہ پر موجود ہیں، جن میں لدے ہوئے پھل، سبزیاں، گوشت اور دیگر اشیائے خورونوش خراب ہونے لگی ہیں۔ تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال فوری طور پر حل نہ ہوئی تو مزید کروڑوں روپے مالیت کا سامان ضائع ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بارڈر بند ہونے سے دونوں جانب اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان میں پاکستانی اشیاء کی قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے بعض سرحدی علاقوں میں افغان درآمدی اشیاء کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔
تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز نے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے سرحدی کشیدگی کا پرامن حل تلاش کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ بارڈر بندش کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور اس سے صرف عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔
ایک مقامی ٹرانسپورٹر کا کہنا تھا کہ’’ہم روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا ایندھن اور وقت ضائع کر رہے ہیں، لیکن سب سے بڑا نقصان وہ ہے جو خراب ہونے والے سامان کی شکل میں ہمیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ طورخم بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑی اور مصروف ترین گزرگاہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد اور سینکڑوں گاڑیاں آمدورفت کرتی ہیں۔ سرحد کی مسلسل بندش خطے میں اقتصادی اور انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔





