سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے سابق سینیٹر مشتاق احمد سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، وفد کی سربراہی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے کی ۔ ملاقات میں تحریک کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی بھی شریک تھے۔
جاری اعلامیہ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے عالمی صمود فلوٹیلا کا حصہ بننے اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کرنے پر مبارکباد پیش کی۔
اپوزیشن اتحاد نے مشتاق احمد کو تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی اوروہ اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کا جلد اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کا جماعت اسلامی سے علیحدگی کااعلان
اسلام آباد:سابق سینیٹر مشتاق احمد نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دیدیاہے۔
انہوں نے بتایا کہ جس رات انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا وہ رات ان کے لیے جذباتی طور پر انتہائی مشکل تھی اور وہ روتے رہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد خان نے بتایا کہ 19 ستمبر کو صمود فلوٹیلا میں شامل ہونے کے دوران انہوں نے جماعت اسلامی سے دستبرداری کا فیصلہ کیا، تاہم ان کے اور جماعت اسلامی کے درمیان عزت اور احترام کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔
مشتاق احمد خان نے کہا کہ وہ اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور فلسطین کے حق میں کام جاری رکھیں گے اور انسانی حقوق کے میدان میں اپنی خدمات پیش کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوں گے۔
سابق سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ احترام اور محبت کی بنیاد پر رہے ہیں اور وہ جماعت اسلامی کے احسان مند رہیں گے۔





