وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کسی کے خلاف نہیں اتارا گیا ، ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔
سابق صوبائی وزیر مینا خان کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے، گزشتہ حکومت کے دوران ہم کچھ کمزور تھے، جو غلطیاں ہوں ان پر تنقید کیجیے مگر صوبے کو نقصان نہ پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کسی کے خلاف نہیں اتارا گیا ، ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہم عدالتوں میں اپنا مؤقف رکھ رہے ہیں، اگر انصاف نہ ملا تو احتجاج کریں گے۔ فوج آرٹیکل 245 کے تحت آتی ہے۔ علاقے کلیئر ہونے کے بعد اگر دہشت گرد دوبارہ آباد کیے گئے تو پھر بڑے اور چھوٹے آپریشنز کیے گئے؛ ہم ان آپریشنز کے سخت حامی نہیں کیونکہ اس میں نقصانات ہوتے ہیں اور مسائل بڑھتے ہیں۔ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیسے امن ممکن ہوگا؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صنم جاوید کے بارے میں کوئی خاص ہدایت نہیں تھی، عمومی ہدایات تھیں کہ کسی سیاسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے۔ صنم جاوید کے بارے میں رپورٹ موصول ہوئی ہے مگر میں مطمئن نہیں ہوں ،دوبارہ رپورٹ لوں گا۔
افغانستان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو جواب ملے گا۔ یہاں سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے ہیں، 12 لاکھ ابھی موجود ہیں انہیں باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے گا۔ واپسی کا عمل تیز کرنے کے لیے “تھری فور ونڈو” آپریشن کیا جائے گا۔ افغان مہاجرین نے یہاں طویل عرصہ گزارا ہے، لہٰذا انہیں باعزت طریقے سے واپس بھیجنا چاہیے۔ ہمارا موقف یہی ہے کہ افغان مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں حکومت چلانے کے لیے نہیں، تبدیلی کے لیے آیا ہوں۔ اگر عمران خان سے ملاقات کا وقت میسر نہ ہوا تو مشاورت کے ذریعے کابینہ تشکیل دی جائے گی۔ فی الحال چیف سیکریٹری اور آئی جی پی اپنی موجودہ تقرریوں پر برقرار رہیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پہلے مجھے ٹارگٹ کیا گیا، پھر آئینی عمل روکا گیا ،کیا یہی طریقہ ہے؟ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی کہ جو اعتراضات دور کرکے پیر کو دوبارہ دائر کروں گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ہمیں راستہ نہ ملا تو مزاحمت کریں گے۔ پنجاب حکومت نے راستہ روکا تو ہم نے اس پر احتجاج کیا۔ میرا فوکس امن و امان، ترقیاتی کام اور اچھی حکمرانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ملک کے اندر کوئی بھی ملکیت یا ادارہ پاکستان کے خلاف جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ افغانستان کے معاملات پر جو بھی پالیسی بنے، اس میں ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سول پاورز ایکشن ان ایڈ (civil powers act-in-aid) کے خاتمے کا فیصلہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا۔





