پاک افغان کشیدگی پر تشویش ہے، افغان قیادت کے حالیہ بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں، آفتاب شیرپاؤ

پشاور: قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے پاک افغان تعلقات میں حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو جھڑپیں ہوئیں، ان میں دونوں جانب نقصان ہوا، تاہم افغانستان کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

پختون ڈیجیٹل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاک افغان تعلقات اتنی شدت کے ساتھ کشیدہ ہوئے ہیں کہ بات جنگ تک جا پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس صورتحال پر گہری تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور یہی مؤقف دوحہ معاہدے میں بھی شامل ہے تاہم اس حوالے سے افغانستان کی جانب سے بار بار غیر یقینی رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز، زمبابوے نے پی سی بی کی دعوت قبول کرلی

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی چین میں ملاقات، کابل میں میٹنگز، روس کی ثالثی اور ایران میں ہونے والی بات چیت کے باوجود حالات میں بہتری نہیں آئی جو باعثِ تشویش ہے۔

آفتاب شیرپاؤ نے افغان قیادت کے حالیہ بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ کہنا درست نہیں، جبکہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا بھی افسوسناک اور پاکستان کی توقعات کے برعکس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات ضرور ہو سکتے ہیںلیکن دونوں ممالک کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد اور تاریخی تعلقات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے بیانات اور رویے خطے کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : دوحہ: پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل

Scroll to Top