امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ آمرانہ پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ’’نو کنگز‘‘ کے عنوان سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
یہ مظاہرے نہ صرف امریکا کے 2600 سے زائد شہروں اور قصبوں میں ہوئے بلکہ یورپ، کینیڈا اور میکسیکو کے متعدد شہروں میں بھی اس تحریک کی بازگشت سنائی دی۔
احتجاجی تحریک شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم گروپس اور اداروں، بشمول امریکن سول لبرٹیز یونین کی جانب سے منظم کی گئی، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ امریکا میں جمہوریت کی بنیادوں کو آمرانہ رجحانات سے محفوظ رکھا جائے۔
سب سے بڑے اجتماعات بوسٹن، نیویارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی میں دیکھنے میں آئے جہاں بوسٹن کے جلسے میں شہر کی میئر نے بھی شرکت کی اور مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ
سیاسی قیادت کی جانب سے مظاہروں پر مختلف آرا سامنے آئیں، سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اسے جمہوری عزم کا اظہار قرار دیا جبکہ ریپبلکن رہنما مائیک جانسن نے اسے سیاسی انتشار پھیلانے کی کوشش سے تعبیر کیا۔





