وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے اب اس معاملے پر باقاعدہ سماعت کے لیے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران دیا۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ پنجاب، آئی جی پولیس اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر 2025 کے لیے طلب کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹرار آفس نے ان کی پٹیشن پر یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا حکومت یا کابینہ کی منظوری کے بغیر درخواست کیوں دائر کی۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ یہ اعتراض بلاجواز ہے کیونکہ صوبائی کابینہ ابھی تک تشکیل ہی نہیں پائی۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے حوالے سے عدالت پہلے ہی مربوط درخواستوں پر فیصلہ دے چکی ہے، جس میں ملاقاتوں کا طریقہ کار اور ایس او پیز طے کیے جا چکے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے متعلقہ عہدیداروں کو ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملاقات کرنے والوں کی فہرست تیار کریں، لیکن انہیں اس کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کیس کو آگے بڑھانے کا حکم دیا اور متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے۔ اب 23 اکتوبر کو عدالت اس معاملے پر مزید کارروائی کرے گی۔





