کون حکم دے گا تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائیں گے؟ رانا ثنا نے واضح کر دیا

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر عدالت حکم دے تو بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے تھے اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر اٹھائے گئے شکوک و شبہات بلاجواز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے دستے کی سربراہی سہیل آفریدی نے کی، اور یہ باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں، اسی لیے وزیر اعلیٰ پر شکوک کا اظہار کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک صوبے کی ترقی کے حوالے سے کوئی ٹھوس بات نہیں کی اور ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جیل میں قید کسی شخص سے ملاقات کرانا کہاں لکھا ہے، اور یہ بھی کہ ایک سیاسی رہنما کو کارکنوں سے ملاقات کروانے کی کوئی ضرورت نہیں،

البتہ عدالت کے حکم پر ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے جو رویہ اختیار کیا ہے اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں، اور اگر صوبائی حکومت جرگے کا انعقاد کر رہی ہے تو اس میں کوئی اعتراض نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 7 طیارے گرائے گئے، ٹرمپ کے دعوے نے سنسنی مچا دی

وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ گاڑیاں دینے سے پہلے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا۔

رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کسی مدرسے یا مسجد کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، جس نے سپریم کورٹ کو قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں اور جرگے میں ہونے والی باتوں کو وفاقی حکومت تک پہنچائیں گے۔

Scroll to Top