بھارت روسی تیل سے پیچھے ہٹنے لگا، ٹرمپ کا بیان سامنے آ گیا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے روس سے تیل کی درآمدات میں واضح کمی کی ہے اور مستقبل میں اس سلسلے کو مزید محدود کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔

ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور روس یوکرین جنگ پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں بتدریج کمی کی ہے اور آئندہ اس میں مزید کمی کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جلد از جلد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ دنیا میں امن اور معاشی استحکام بحال ہو سکے۔

یاد رہے کہ 2022 میں روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد بھارت نے مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود روس سے سستے داموں تیل خریدنا شروع کیا تھا۔

تاہم حالیہ مہینوں میں امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد نئی دہلی نے ان درآمدات میں بتدریج کمی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 7 طیارے گرائے گئے، ٹرمپ کے دعوے نے سنسنی مچا دی

صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل بھی روسی تیل کی خریداری پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے روس سے تیل لینا بند نہ کیا تو امریکا کی جانب سے بھاری ٹیرف برقرار رہیں گے۔

ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو واشنگٹن کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکا چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی ممالک روس پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھیں تاکہ ماسکو کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنے سے روکا جا سکے۔

Scroll to Top