واشنگٹن: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 18 نومبر کو اہم امریکی دورے پر امریکا پہنچیں گے
جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال، توانائی کے شعبے میں تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر بات چیت ہوگی۔
امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ دونوں رہنما عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے استحکام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کریں گے۔
اس دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان واشنگٹن کے علاوہ نیویارک اور لاس اینجلس میں بھی مختلف کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
یہ دورہ خطے میں موجود سیاسی اور اقتصادی معاملات میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 7 طیارے گرائے گئے، ٹرمپ کے دعوے نے سنسنی مچا دی
ٹرمپ نے خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اتنی شدید تھی کہ سات طیارے گر چکے تھے، لیکن ان کی کوششوں سے معاملہ قابو میں آ گیا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں، ان کے درمیان امن برقرار رکھنا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ طاقت کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے قائل ہیں۔
چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں میں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے متعدد اہم امور پر بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اقتصادی اور تجارتی معاملات پر اہم فیصلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چین سے ٹیرف کی مد میں اربوں ڈالر وصول کر چکے ہیں اور ایک منصفانہ تجارتی معاہدے کی توقع رکھتے ہیں، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال کشیدہ بھی ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے چینی صدر کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن ملاقات نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔





