ٹی ایل پی کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش، پابندی کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی، شیرافضل

اسلام آباد: شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر ابھی تک قانون کے مطابق پابندی عائد نہیں ہوئی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت کسی بھی پارٹی پر صرف دو صورتوں میں پابندی لگا سکتی ہے۔

شیرافضل مروت کے مطابق کسی بھی جماعت پر پابندی ملکی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے تحت لگائی جا سکتی ہے اور کسی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے وفاقی حکومت کو شواہد پیش کرنے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندی کے حوالے سے وفاقی کابینہ کا فیصلہ سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا اور کسی بھی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا حتمی اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

شیرافضل مروت نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھیجنے کے بعد 15 دن کے اندر ریفرنس پر فیصلہ دیا جاتا ہے، اور اگر سپریم کورٹ نے منظوری دی تو پابندی نافذ ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین تمام شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ سیاست اور جمہوریت میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں، ٹی ایل پی کی ہر سرگرمی پرتشدد ہے اور فنڈنگ کے ذرائع کو بھی دیکھا جائے گا۔

اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ ٹی ایل پی نے جماعت کے نام کے پیچھے چھپی گندی سیاست کی ہے اور جو بھی اس راستے پر چلتا ہے، وہ سیاسی جماعت نہیں ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاستدانوں کے پاس ہتھیار نہیں ہوتے اور جو ہتھیار اٹھا کر چلیں، وہ سیاستدان نہیں کہلاتے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

کابینہ نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سفارش کو منظور کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی سے متعلق سمری زیر غور آئی۔ کابینہ نے سمری کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11B(1) کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 2021 میں بھی ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم سات ماہ بعد پی ٹی آئی حکومت نے یہ پابندی واپس لے لی تھی۔

پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے فیصلے کے تحت باقاعدہ سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جس میں جماعت پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پابندی کی تجویز گزشتہ دنوں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے واقعات کے بعد دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج غزہ کے امن معاہدے کے بعد کیا گیا، سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کی گاڑیاں جلانے سے غزہ کا مسئلہ حل ہو گیا؟

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پرتشدد مظاہرے کرنے والے عناصر ملک اور عوام دونوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، ایسی سرگرمیوں کی آڑ میں امن و امان کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور کسی بھی شدت پسندانہ بیانیے کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔

عظمیٰ بخاری نے تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کی کال کو مسترد کرنے پر تاجر برادری کے شکر گزار ہیں، حکومت ایسے عناصر کو عوامی زندگی متاثر کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔

Scroll to Top