دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ویب براؤزر گوگل کروم میں ایک سنگین سیکیورٹی خامی سامنے آنے کے بعد کمپنی نے فوری طور پر ہنگامی اپ ڈیٹ جاری کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ خامی تقریباً 3.5 ارب صارفین کو متاثر کر سکتی ہے اور ہیکرز پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس خامی کا کوڈ نام CVE-2025-6554 ہے، جو کروم کے V8 جاوا اسکرپٹ اور ویب اسمبلی انجن میں ٹائپ کنفیوزن بگ کی شکل میں موجود ہے۔
اس کے ذریعے ہیکرز صارفین کو صرف ایک تیار شدہ HTML صفحہ دکھا کر ان کے سسٹمز پر خطرناک کوڈ چلانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
گوگل کے مطابق یہ 2025 میں دریافت ہونے والی چھٹی زیرو ڈے خامی ہے، جو پہلے ہی حملوں میں استعمال ہو چکی ہے۔
اس سے قبل CVE-2025-4664 اور CVE-2025-5419 جیسی خامیاں بھی سامنے آ چکی ہیں۔
ماہرین کی ہدایات:
صارفین فوری طور پر کروم کی Settings → About Chrome میں جا کر چیک کریں کہ براؤزر کا ورژن 138.0.7204.96 یا اس سے جدید ہے۔
اپ ڈیٹ کے بعد براؤزر کو ری اسٹارٹ کرنا لازمی ہے تاکہ سیکیورٹی پیچ مؤثر ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے مشورے سے بننے والی پختونخوا کابینہ آئینی طور پر کالعدم ہو سکتی ہے، رانا ثناء
اداروں اور کمپنیوں کو سفارش کی گئی ہے کہ وہ تمام سسٹمز پر اپ ڈیٹس فوری طور پر کریں اور کسی بھی غیر معمولی براؤزریا نیٹ ورک ایکٹیویٹی پر نظر رکھیں۔
تازہ پیچ انسٹال ہونے تک غیر معروف ویب سائٹس کے وزٹ سے گریز کریں۔
وسیع تر خطرہ:
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ براؤزرز اب سائبر حملوں کا سب سے بڑا ہدف بن چکے ہیں۔
2024 اور 2025 میں کروم اور دیگر متبادل براؤزرز میں 30 سے زائد زیرو ڈے خامیاں سامنے آ چکی ہیں۔ یہ حملے کریپٹو کرنسی، رینسم ویئر اور سپلائی چین جیسے بڑے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔





